نئی دہلی،31اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جموں و کشمیر میں 5 بنگالی مزدوروں کے قتل معاملے میں مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکز کی مودی سوال پر اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی مکمل انتظامیہ اب مرکزی حکومت کے ہاتھوں ہے۔ یورپی یونین اراکین پارلیمنٹ کے دورے کو دیکھتے ہوئے تمام قسم کی احتیاطی تدابیر برتی گئی تھیں تو پھر ان مزدوروں کاقتل کیسے ہوگیا۔آپ کو بتا دیں کہ گزشتہ منگل کو کشمیر کے کولگام کے کتارسو میں دہشت گردوں نے کشمیر سے باہر کے پانچ مزدوروں کو قتل کر دیا۔ دہشت گردوں نے اس حملے کو انجام تب دیا جب یورپی ممبران پارلیمنٹ کا ایک 27 رکنی وفد جموں و کشمیر کے دورے پر آنے والا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ کولگام میں پانچ غیر کشمیری مزدوروں کی لاشیں برآمد کئے جانے کے بعد علاقے میں تلاشی مہم شروع کی گئی اور ساتھ ہی فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے اضافی جوانوں کو بھی علاقے میں بھیجا گیا۔ واقعہ میں زخمی ایک مزدور کی بعد میں علاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔غور طلب ہے کہ پانچ اگست کو جموں کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد یہ پہلا واقعہ تھا جس میں دہشت گردوں نے ایک ساتھ اتنے مہاجر کارکنوں کو ہلاک کر دیا ہو۔ ہلاک ورکرز مغربی بنگال کے مرشدآباد کے تھے۔ جموں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد سے ہی بوکھلائے دہشت گرد ٹرک ڈرائیوروں، کاروباریوں اور دوسری ریاستوں سے آئے مزدوروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی دہشت گردوں نے ایک غیر کشمیری مزدور کاقتل کر دیا تھا۔ گزشتہ 15 دنوں میں دہشت گردوں نے 6 ٹرک ڈرائیوروں، ایک سیب کاروباری اور دیگرریاست سے آئے 6 مزدوروں کا قتل کر چکے ہیں۔